حدیث نمبر: 3802
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ , وَلَا أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : كَالْحَاسِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَاعْرِفُوهُ لَهُ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ , فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ يَمْشِي فِي الْأَرْضِ بِزُهْدِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو “ ، یہ سن کر عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے : اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، بتا دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3802
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (6230 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (3802) لاأصل له, هذا الحديث لم أجده وأما حديث ”ما أظلت الخضراء“ إلخ فسنده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11976) (ضعیف) (سند میں مرثد الزمانی لین الحدیث راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو ، یہ سن کر عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، بتا دو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3802]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں مرثد الزمانی لین الحدیث راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3802 سے ماخوذ ہے۔