حدیث نمبر: 3791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض ( میراث ) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3791
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (154) ، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : 952) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3790 | سنن ابن ماجه: 154 | بلوغ المرام: 817 | معجم صغير للطبراني: 876

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3790 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض (میراث) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3790]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
أمین یوں تو سارے صحابہ تھے، مگر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس بات میں ممتاز تھے، اس لیے ان کو (اَمِیْنُ الْاُمَّة) (آج کل کی اصطلاح میں پوری اُمّت کا جنرل سیکریٹری) کا لقب دیا، اسی طرح بہت ساری اچھی صفات میں بہت سے صحابہ مشترک ہیں مگر کسی کسی کی خاص خصوصیت ہے کہ جس کی وجہ سے آپﷺ نے ان کواس صفت میں ممتا ز قرار دیا، جیسے حیاء میں عثمان، قضاء میں علی، میراث میں زید بن ثابت اور قراء ت میں ابی بن کعب، و غیرہم رضی اللہ عنہم، (دیکھئے اگلی حدیث)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3790 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 817 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´فرائض (وراثت) کا بیان`
سیدنا ابوقلابہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے زیادہ میراث کو جاننے والا زید بن ثابت ہے۔ اس حدیث کو احمد اور چاروں نے ماسوا ابوداؤد کے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے لیکن اسے مرسل ہونے کی بنا پر معلول قرار دیا گیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 817»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل، حديث:3790، 3791، وابن ماجه، المقدمة، حديث:154، والنسائي في الكبرٰي:5 /78، حديث:8287.»
تشریح: یہ دراصل ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔
مکمل روایت یوں ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں سے امت پر سب سے زیادہ رحم دل اور شفیق انسان ابوبکر (رضی اللہ عنہ) ہیں ‘ دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر(رضی اللہ عنہ)‘ سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان (رضی اللہ عنہ)‘ سب سے بہتر فیصلے کرنے والے علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)‘ کتاب اللہ کے سب سے اچھے قاری اُبی بن کعب (رضی اللہ عنہ)‘ حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) اور علم میراث کے سب سے زیادہ ماہر زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) ہیں۔
‘‘ یہی وجہ ہے کہ علمائے اسلام نے میراث کے اختلافی مسائل میں عموماً حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے قابل ترجیح قرار دی ہے۔

راویٔ حدیث:
«حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ» قلابہ میں ’’قاف‘‘ کے نیچے کسرہ اور ’’لام‘‘ مخفف ہے۔
ان کا نام عبداللہ بن زید بن عمرو یا عامر جرمی بصری ہے۔
جلیل القدر تابعی‘ ثقہ اور فاضل آدمی ہیں۔
ان کی اکثر روایات میں ارسال ہوتا ہے۔
کتب ستہ کے راویوں میں سے ہیں۔
منصب قضا کو چھوڑ کر شام جاکر مقیم ہو گئے اور وہاں ۱۰۴ یا ۱۰۶ یا ۱۰۷ ہجری میں فوت ہوئے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 817 سے ماخوذ ہے۔