حدیث نمبر: 3784
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا : بیٹے ! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3784
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (6163) , شیخ زبیر علی زئی: (3784) إسناده ضعيف, زمعة: ضعيف (تقدم: 3616) وللحديث شواهد ضعيفة
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6096) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3784]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3784 سے ماخوذ ہے۔