سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ السَّدْلِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں سدل کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ ، فَكَرِهَ بَعْضُهُمُ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالُوا : هَكَذَا تَصْنَعُ الْيَهُودُ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا كُرِهَ السَّدْلُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، فَأَمَّا إِذَا سَدَلَ عَلَى الْقَمِيصِ فَلَا بَأْسَ ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَكَرِهَ ابْنُ الْمُبَارَكِ السَّدْلَ فِي الصَّلَاةِ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ہم ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو عطا کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے عسل بن سفیان ہی کے طریق سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
۳- سدل کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے : بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں سدل کرنا مکروہ ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہود کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نماز میں سدل اس وقت مکروہ ہو گا جب جسم پر ایک ہی کپڑا ہو ، رہی یہ بات کہ جب کوئی کرتے کے اوپر سدل کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎ یہی احمد کا قول ہے لیکن ابن مبارک نے نماز میں سدل کو ( مطلقاً ) مکروہ قرار دیا ہے ۔
۲؎: اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے، حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں، کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے، چاہے سدل کی جو بھی تفسیر کی جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 378]
1؎:
سدل کی صور ت یہ ہے کہ چادر یا رومال وغیرہ کو اپنے سر یا دونوں کندھوں پر ڈال کر اس کے دونوں کناروں کو لٹکتا چھوڑ دیا جائے اور سدل کی ایک تفسیر یہ بھی کی جاتی ہے کہ کُرتا یا جُبہ اس طرح پہنا جائے کہ دونوں ہاتھ آستین میں ڈالنے کے بجائے اندر ہی رکھے جائیں اور اسی حالت میں رکوع اور سجدہ کیا جائے۔
2؎:
اس تقیید پر کوئی دلیل نہیں ہے، حدیث مطلق ہے اس لیے کہ سدل مطلقاً جائز نہیں، کرتے کے اوپر سے سدل میں اگرچہ ستر کھلنے کا خطرہ نہیں ہے لیکن اس سے نماز میں خلل تو پڑتا ہی ہے، چاہے سدل کی جو بھی تفسیرکی جائے۔
نوٹ:
(عسل بن سفیان بصری ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، لیکن ابو جحیفہ کے شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل ۱؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 643]
➊ "سدل" کی شارحیں حدیث نے یہ وضاحت کی ہے کہ چادر کو اس کے درمیان سے اپنے سر یا کندھوں پر ڈال لیا جائے اور اس کی دائیں بائیں اطراف لٹکی رہیں۔ یا صاحب النہایہ کے بیان کے مطابق کپڑے کو اس انداز سے اپنے اوپر لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو جائیں اور پھر رکوع اور سجدے میں بھی ان کو نہ نکالا جائے، تو یہ صورتیں نماز کےمنافی ہیں۔
➋ روایت ضعیف ہے، اس لیے مسئلے کےاثبات کے لیے کافی نہیں۔ تاہم شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک صحیح ہے، بنابریں اس صورت میں سدل ممنوع ہو گا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 966]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے شیخ نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے بنا بریں اسے حسن ماننے کی صورت میں نماز کے دوران میں منہ پر کپڑا ڈالنا یا کپڑے سے منہ چھپانا منوع ہوگا۔
اس عمل کو اہل عرب سدل سے تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ بعض روایات میں لفظ سدل کا بھی ذکر آیا ہے۔
دیکھئے: (مسند احمد، 348، 345، 341، 295، وسنن ابی داؤد، الصلاۃ، حدیث: 644، 643)