حدیث نمبر: 3776
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` لوگوں میں حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 22 (3752) ( تحفة الأشراف : 1539) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3752

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3752 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3752. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: حضرت حسن بن علی ؓ سے بڑھ کر اور کوئی شخص نبی ﷺ سے زیادہ مشابہت نہیں رکھتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3752]
حدیث حاشیہ: عبدالرزاق کی روایت کو امام احمد اور عبدبن حمید نے روایت کیا ہے، اس سند کے بیان کرنے سے حضرت امام بخاری ؒ کی غرض یہ ہے کہ زہری ؒ کا سماع حضرت انس ؓ سے ثابت ہوجائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3752 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3752 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3752. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: حضرت حسن بن علی ؓ سے بڑھ کر اور کوئی شخص نبی ﷺ سے زیادہ مشابہت نہیں رکھتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3752]
حدیث حاشیہ:

امام ترمذی ؒ نے شمائل میں حضرت علی ؓ سے بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کسی کو ان کوان کے ہم شکل نہیں پایا۔

بظاہر یہ حدیث مذکورہ حدیث کے معارض ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے جواب دیا ہے کہ حضرت علی ؓ عمومی مشابہت کی نفی کررہے ہیں جبکہ اثبات اکثریتی انداز کا ہے۔
(صحیح البخاري، حدیث: 3717)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3752 سے ماخوذ ہے۔