سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ " ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ : " ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ " , فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ . قَالَ : هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” حسن اور حسین “ ( رضی الله عنہما ) ، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے : ” میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: " حسن اور حسین " (رضی الله عنہما)، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: " میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے۔" [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3772]
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: " حسن اور حسین " (رضی الله عنہما)، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: " میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے۔" [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3772]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف راوی ہیں)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3772 سے ماخوذ ہے۔