حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقُلْتُ : مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا " . قَالَ : هَذَا غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمیٰ کہتی ہیں کہ` میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی ، وہ رو رہی تھیں ، میں نے پوچھا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ وہ بولیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ( یعنی خواب میں ) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی ، تو میں نے عرض کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : ” میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3771
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (6157) , شیخ زبیر علی زئی: (3771) إسناده ضعيف, سلمٰي :لا تعرف (تق: 8607) وحديث أحمد (283/1) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 18279) (ضعیف) (سند میں سلمی البکریة ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان`
سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے (یعنی خواب میں) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3771]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں سلمی البکریۃ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3771 سے ماخوذ ہے۔