سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد , قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ : طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي ، قُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ , وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ , فَقَالَ : " هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا ، فَأَحِبَّهُمَا ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ .´اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے ، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں ؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے ، پھر آپ نے فرمایا : ” یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں ، اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ران پر مجھے اور دوسری پر حضرت حسن ؓ کو بٹھاتے پھر ہمیں اپنے ساتھ چمٹا لیتے پھر دعا کرتے۔
’’اے اللہ! ان دونوں پر اپنا رحم و کرم فرما میں خود بھی ان پر شفقت کرتا ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6003)
اس سے حضرت حسن ؓ کی منقبت ظاہر ہوتی ہے۔