سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضى الله عنه باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ : " مَا أَغْضَبَكَ ؟ " , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ ، قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي , فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ` عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے ، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ نے پوچھا : ” تم غصہ کیوں ہو ؟ “ وہ بولے : اللہ کے رسول ! قریش کو ہم سے کیا ( دشمنی ) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں ، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے ، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” اے لوگو ! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: ” تم غصہ کیوں ہو؟ “ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا (دشمنی) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3758]
وضاحت:
1؎:
حدیث میں (صِنْوُ) کا لفظ آیا ہے، (صِنْوُ) کی حقیقت یہ ہے کہ کسی درخت کے ایک ہی تنے سے اوپر دو یا تین یا چار شاخیں نکلتی ہیں، ان شاخوں کو آپس میں ایک دوسرے کا (صِنْوُ) کہتے ہیں۔
نوٹ: (سند میں یزید بن ابی زیاد ہاشمی کوفی ضعیف شیعی راوی ہے، کبر سنی کی وجہ سے حافظہ میں تغیر آ گیا تھا، اور دوسروں کی تلقین قبول کرنے لگے تھے، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا (عَمُّ الَّرَجُلِ صِنْوُ أَبِيْهِ) ثابت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے: 3760، 3761)