سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضى الله عنه باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3754
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ : " جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یوں فرمایا: ” میرے باپ اور میری ماں تم پر فدا ہوں “۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3754]
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3754]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی یوں فرمایا: ’’میرے باپ اور میری ماں تم پر فدا ہوں‘‘۔
وضاحت:
1؎:
یعنی یوں فرمایا: ’’میرے باپ اور میری ماں تم پر فدا ہوں‘‘۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3754 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3753 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ” تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3753]
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ” تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3753]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب میں گزرا کہ ان کے لیے بھی اللہ کے رسولﷺ نے (فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّیْ)، کہا، دونوں میں یہ تطبیق دی جاتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو زبیر کے بارے میں یہ معلوم نہیں تھا، یا یہ مطلب ہے کہ احد کے دن کسی اور کے لیے آپﷺ نے ایسا نہیں کہا۔
نوٹ:
(متن میں (اَلْغَلاَمُ الحَزَوَّر) کا ذکر منکر ہے، سند میں حسن بن الصباح البزار راوی کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں: صدوق ہیں یعنی ثقہ ہیں، اور حدیث بیان کرنے میں وہم کا شکارہو جاتے ہیں، اور (اَلْغَلاَمُ الحَزَوَّر) کی زیادتی اس کی دلیل ہے)
وضاحت:
1؎:
زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب میں گزرا کہ ان کے لیے بھی اللہ کے رسولﷺ نے (فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّیْ)، کہا، دونوں میں یہ تطبیق دی جاتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو زبیر کے بارے میں یہ معلوم نہیں تھا، یا یہ مطلب ہے کہ احد کے دن کسی اور کے لیے آپﷺ نے ایسا نہیں کہا۔
نوٹ:
(متن میں (اَلْغَلاَمُ الحَزَوَّر) کا ذکر منکر ہے، سند میں حسن بن الصباح البزار راوی کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں: صدوق ہیں یعنی ثقہ ہیں، اور حدیث بیان کرنے میں وہم کا شکارہو جاتے ہیں، اور (اَلْغَلاَمُ الحَزَوَّر) کی زیادتی اس کی دلیل ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3753 سے ماخوذ ہے۔