حدیث نمبر: 3752
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : أَقْبَلَ سَعْدٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ ، وَكَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ، وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ، فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا خَالِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے ماموں ہیں ، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں ، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” یہ میرے ماموں ہیں “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی میرے ماموں جیسے کسی کے ماموں نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3752
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (6118) , شیخ زبیر علی زئی: (3752) إسناده ضعيف, مجالد ضعيف (تقدم: 653) وللحديث شواهد ضعيفة عند الحاكم (491/3) وغيره
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 2352) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3752]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی میرے ماموں جیسے کسی کے ماموں نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3752 سے ماخوذ ہے۔