سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَيُقَالُ : الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ ، سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ : الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے ، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار تھے، مگر زبیر رضی الله عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طور سے آپ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3744]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3744]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یوں تو سبھی صحابہ کرام آپﷺ کے مددگارتھے، مگر زبیر رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طورسے آپﷺ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ: 122)
وضاحت:
1؎:
یوں تو سبھی صحابہ کرام آپﷺ کے مددگارتھے، مگر زبیر رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طورسے آپﷺ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ: 122)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3744 سے ماخوذ ہے۔