حدیث نمبر: 3739
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطُّلَحِيُّ مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ : قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ ، وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو ( دنیا ہی میں ) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ معجزات رسول میں سے ایک معجزہ تھا، چنانچہ طلحہ رضی الله عنہ اس معجزہ نبوی کے مطابق واقعہ جمل میں شہید ہوئے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3739
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (125) , شیخ زبیر علی زئی: (3739) ضعيف/ جه 125, صالح بن موسٰي وشيخه الصلت بن دينار متروكان (تق:2891 ، 2947) ولم أجد له طريقًا صحيحًا ولا حسنًا
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (125) ( تحفة الأشراف : 3103) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 125

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو (دنیا ہی میں) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3739]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ معجزات رسولﷺ میں سے ایک معجزہ تھا، چنانچہ طلحہ رضی اللہ عنہ اس معجزہ نبویﷺ کے مطابق واقعہ جمل میں شہید ہوئے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3739 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 125 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 125]
اردو حاشہ: (1)
اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے۔
شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 126)
اس میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خوش خبری ہے جو ایک عظیم سعادت ہے۔

(2)
آپ کی شہادت جنگ جمل کے موقع پر ہوئی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاجرات میں جو صحابہ رضی اللہ عنھم شہید ہوئے وہ اللہ کے ہاں مجرم نہیں، ورنہ انہیں شہادت کی خبر نہ دی جاتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 125 سے ماخوذ ہے۔