حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي ، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے “ ( دینے میں یا بولنے میں ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے “ (دینے میں یا بولنے میں)۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3722]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے “ (دینے میں یا بولنے میں)۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3722]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن عمرو بن ہند جملی کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، یعنی: سند میں انقطاع ہے)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن عمرو بن ہند جملی کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، یعنی: سند میں انقطاع ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3722 سے ماخوذ ہے۔