حدیث نمبر: 3721
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ " ، فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ السُّدِّيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ ، وَعِيسَى بْنُ عُمَرَ هُوَ كُوفِيٌّ ، وَالسُّدِّيُّ اسْمُهُ : إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَزَائِدَةُ , وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا ، آپ نے دعا فرمائی کہ ” اے للہ ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے ، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں
۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے ، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے ، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے ، شعبہ ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے ، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (6085)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 228) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں، اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم، اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ اے للہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3721]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں، اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم، اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3721 سے ماخوذ ہے۔