حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : " إِنَّا كُنَّا لَنَعْرِفُ الْمُنَافِقِينَ نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هَارُونَ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي أَبِي هَارُونَ , وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم گروہ انصار ، منافقوں کو علی رضی الله عنہ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے ، ۲- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے ، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے ۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ الْمُسَاوِرِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ , وَلَا يَبْغَضُهُ مُؤْمِنٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو نَصْرٍ الْوَرَّاقُ ، وَرَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ .´مساور حمیری اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ` میں ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی تو میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” علی سے کوئی منافق دوستی نہیں کرتا اور نہ کوئی مومن ان سے بغض رکھتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے مراد ابونصر وراق ہیں اور ان سے سفیان ثوری نے روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو علی رضی الله عنہ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3717]
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ابوہارون العبدی متروک راوی ہے)