حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا , وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ ثَلَاثُ مِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا , وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ : " مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ السَّكَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے ، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے ، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی ، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے ، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول ! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ ” اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں ، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (6063) , شیخ زبیر علی زئی: (3700) إسناده ضعيف, فرقد أبو طلحة: مجهول (تق:5385) والحديث الآتي (الأصل:3701) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 9694) (ضعیف) (سند میں فرقد ابو طلحہ مجہول راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3700]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں فرقد ابوطلحہ مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3700 سے ماخوذ ہے۔