سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضى الله عنه باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ َرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعَلِيٌّ , وَعُثْمَانُ , وَطَلْحَةُ , وَالزُّبَيْرُ ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ , أَوْ صِدِّيقٌ , أَوْ شَهِيدٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، علی ، عثمان ، طلحہ ، اور زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ ۱؎ پر تھے ، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہری رہ ، تجھ پر نبی ، صدیق اور شہید ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عثمان ، سعید بن زید ، ابن عباس ، سہل بن سعد ، انس بن مالک ، اور بریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ (باب مناقب ابی بکر) اور (باب مناقب عثمان) میں ”احد پہاڑ“ کا تذکرہ ہے، حافظ ابن حجر کے بقول: یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ ۱؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3696]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ ۱؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3696]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح بخاري کتاب فضائل الصحابة (باب مناقب أبي بکر) اور (باب مناقب عثمان) میں ’’احد پہاڑ‘‘ کا تذکرہ ہے، حافظ ابن حجر ؒ کے بقول: یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
صحیح بخاري کتاب فضائل الصحابة (باب مناقب أبي بکر) اور (باب مناقب عثمان) میں ’’احد پہاڑ‘‘ کا تذکرہ ہے، حافظ ابن حجر ؒ کے بقول: یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3696 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2417 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پرکھڑے تھے،آپ کے ساتھ،ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ،علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے تو ایک چٹان نےحرکت کی،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"پرسکون ہوجا،ٹھہرجا،کیونکہ تجھ پر بس،نبی،صدیق یا شہید ہی ہے۔""اهداء:اُسكُن" کے ہم معنی ہے،ساکن ہوجا،ٹھہر جا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6247]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی تھے اور ابوبکر شہید اور باقی حضرات کی آپ نے شہادت کی پیشن گوئی فرمائی، اگلی روایت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی شہداء میں شمار کیا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی ان لوگوں میں داخل ہیں، جن کے بارے میں آپ نے جنت کی گواہی دی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2417 سے ماخوذ ہے۔