سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3693
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا صَحِيحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ ، قَالَ : قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ : مُحَدَّثُونَ يَعْنِي مُفَهَّمُونَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے ، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ۲- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا : «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو ۔
وضاحت:
۱؎: «محدث» اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے، جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا، اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل و دماغ میں ڈال دی جاتی ہے، اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر رضی الله عنہ کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی (نیز دیکھئیے حدیث رقم: ۳۶۹۱)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3693]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3693]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
محدث اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے، جبرئیل ؑ وحی لیکر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا، اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل ودماغ میں ڈال دی جاتی ہے، اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی (نیز دیکھئے حدیث رقم:3691)
وضاحت:
1؎:
محدث اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے، جبرئیل ؑ وحی لیکر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا، اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل ودماغ میں ڈال دی جاتی ہے، اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی (نیز دیکھئے حدیث رقم:3691)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3693 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2398 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔"تم سے پہلی امتوں سے محدث ہوتے تھے،سوگرمیری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تو عمر بن خطاب ان میں داخل ہے۔"ابن وہب کہتے ہیں،"مُحَدَّثُونَ" کی تفسیر "مُلْهَمُونَ"ہے،(جن کی طرف الہام کیاجاتاہے) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6204]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: محدثون: (دال کے فتحہ کے ساتھ)
جس کے دل میں کوئی چیز ڈالی جائے یا اس کے دل میں کوئی خیال گزرے تو وہ صحیح ہو، یعنی وہ راست باز ہو، صاحب فراست ہو، اس کی زبان پر حق جاری ہو۔
ان يكن فی امتی: اگر میری امت میں ہو گا، اگر پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے تو آپ کی امت میں یقینا ایسے لوگ ہوں گے، اس لیے یہ جملہ شک و شبہ کے لیے نہیں ہے۔
جس کے دل میں کوئی چیز ڈالی جائے یا اس کے دل میں کوئی خیال گزرے تو وہ صحیح ہو، یعنی وہ راست باز ہو، صاحب فراست ہو، اس کی زبان پر حق جاری ہو۔
ان يكن فی امتی: اگر میری امت میں ہو گا، اگر پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے تو آپ کی امت میں یقینا ایسے لوگ ہوں گے، اس لیے یہ جملہ شک و شبہ کے لیے نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2398 سے ماخوذ ہے۔