حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ : فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ : فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ : دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا , وَتَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يكنى : أبا إدريس وهو شيعي .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں ، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے ، سفیان ثوری سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا ( اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے )
۳- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں۔" [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3680]
وضاحت:
1؎:
اس کے باوجود ابوبکروعمر رضی اللہ عنہما کی منقبت میں حدیث روایت کی، اس سے اس روایت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، (الفضل ما شهدت به أعداء)
نوٹ:
(سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں)