حدیث نمبر: 3653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ يَقُولُ : " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (318)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الفضائل 33 (2353) ( تحفة الأشراف : 11402) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2352

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2352 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
جریر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خطبہ دیتے ہوئے یہ سنا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے اور ابوبکر ووعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی اور میں بھی تریسٹھ برس کا ہوں۔ (موت کا خواہاں ہوں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6099]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ ان کی وفات بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین کی عمر میں ہو، لیکن ان کی یہ آرزو پوری نہ ہو سکی، وہ اٹھتر (78)
سال سے زائد عمر پا کر فوت ہوئے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل کو سوموار کے دن، صبح کے وقت پیدا ہوئے، اور علم ہئیت و ریاضی کے ماہر، فلکیات کے عالم محمود پاشا کی تحقیق کے مطابق، یہ نو (9)
ربیع الاول کا واقعہ ہے اپریل کی، 20 یا 21 تاریخ 571ء تھی اور وفات تقریباً دن کے بارہ بجے، سوموار ہی کے دن 11ھ میں ہوئی، مشہور و معروف قول کے مطابق، اس وقت 12 ربیع الاول، 632ء تھا، لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق، 2 ربیع الاول تھا، علامہ سیوطی اور علامہ شبلی نے بھی یکم یا دو ہی کو ترجیح دی ہے اور صحیح قول یہی ہے، حضرت ابوبکر بروز منگل 17 جمادی الاولیٰ 13ھ کو مغرب اور عشاء کے درمیان فوت ہوئے، ان کی خلافت کی مدت، 3 سال 3 ماہ، 8 دن ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر بروز بدھ 26 ذوالحجہ 23ھ کو قاتلانہ حملہ ہوا اور ہفتہ کے روز یکم محرم کو سپرد خاک کیے گئے، مدت خلافت دس سال، چھ ماہ اور چار دن ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2352 سے ماخوذ ہے۔