حدیث نمبر: 3652
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً ، يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، وَلَا يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رُؤْيَةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں عائشہ ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3652
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (3882)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 45 (3903) ، صحیح مسلم/الفضائل 33 (3351) ( تحفة الأشراف : 6300) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3903 | صحيح مسلم: 2351

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3903 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3903. حضرت ابن عباس ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے (نبوت ملنے کے بعد) تیرہ سال تک مکہ میں قیام فرمایا۔ اور جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر مبارک تریسٹھ (63) برس کی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3903]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابن عباس ؓ سے جب ان کے شاگرد عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں توان کے الفاظ یہ ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں وحی نازل ہونے کے بعد پندرہ برس اقامت فرمائی ان میں سے سات سال تک آپ روشنی اور نوردیکھتے رہے،نیز غائبانہ آواز سنتے رہے، پھر آٹھ برس مسلسل وحی کا سلسلہ جاری رہا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6401(2353)
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ آپ نبوت ملنے کے بعد تیرہ سال تک مکہ مکرمہ رہے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
(فتح الباري: 287/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3903 سے ماخوذ ہے۔