سنن ترمذي
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: فضائل و مناقب
باب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ " . قَالَ شُعْبَةُ : قُلْتُ لِسِمَاكٍ : مَا ضَلِيعُ الْفَمِ ؟ قَالَ : وَاسِعُ الْفَمِ ، قُلْتُ : مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ ؟ قَالَ : طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ ؟ قَالَ : قَلِيلُ اللَّحْمِ ؟ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے ، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں ۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے سماک سے پوچھا : «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں ، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا : «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : کم گوشت کے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3645]
وضاحت:
1؎:
یعنی آپﷺ کی پنڈلیاں اتنی بھی باریک نہیں تھیں کہ جسم کے دوسرے اعضاء سے بے جوڑ ہو گئی ہوں۔
نوٹ:
(سند میں حجاج بن ارطاۃ کثیر الخطا والتدلیس راوی ہیں)