حدیث نمبر: 3642
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ ، مِثْلُ هَذَا . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ : " مَا كَانَ ضَحِكُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا تَبَسُّمًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ قہقہہ معزز آدمی کے وقار کے خلاف ہے، اور آپ سے بڑھ کر معزز کون ہو گا؟۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (195) ، المشكاة أيضا
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش روئی اور مسکراہٹ کا بیان`
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3642]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس لیے کہ قہقہہ معزز آدمی کے وقار کے خلاف ہے، اور آپﷺ سے بڑھ کر معزز کون ہو گا؟۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3642 سے ماخوذ ہے۔