حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الْآيَاتِ عَذَابًا ، وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةً ، لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ ، قَالَ : وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ , فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ , وَالْبَرَكَةُ مِنَ السَّمَاءِ " حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے ، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 25 (3579) ( تحفة الأشراف : 9454) ، وسنن الدارمی/المقدمة 5 (30) ، و مسند احمد (1/460) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3579 | سنن دارمي: 29 | سنن دارمي: 30 | معجم صغير للطبراني: 899

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3579 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3579. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم تو معجزات کو باعث برکت خیال کرتے تھے اور تم سمجھتے ہو کہ(کفارکو) ڈرانے کے لیے ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے کہ پانی کم ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: ’’کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرلاؤ۔ ‘‘چنانچہ لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ آپ نے اپنا دست مبارک پانی میں ڈال دیا اور اس کے بعد فرمایا: ’’مبارک پانی کی طرف آؤ اور برکت تو اللہ طرف سے ہے۔ ‘‘میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ کی انگشتہائے مبارک سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ اور(بسا اوقات) کھانا کھاتے وقت ہم کھانے میں سے تسبیح کی آواز سنتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3579]
حدیث حاشیہ: یہ رسول اللہ ﷺ کا معجزہ تھا کہ صحابہ کرام اپنے کانوں سے کھانے وغیرہ میں سے تسبیح کی آواز سن لیتے تھے، ورنہ ہر چیز اللہ پاک کی تسبیح بیان کرتی ہے، جیسا کہ فرمایا ﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ ہرچیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔
امام بیھقی ؒ نے دلائل میں نکالا ہے کہ آپ نے سات کنکریاں لیں، انہوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح کہی ان کی آواز سنائی دی۔
پھر آپ نے ان کو ابوبکر ؓ کے ہاتھوں میں رکھ دیا، پھر عمر ؓ کے ہاتھ میں پھر عثمان ؓ کے ہاتھ میں، ہر ایک کے ہاتھ میں انہوں نے تسبیح کہی۔
حافظ نے کہا شق قمر تو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور لکڑی کا رونا بھی صحیح حدیث سے اور کنکریوں کی تسبیح صرف ایک طریق سے جو ضعیف ہے۔
بہر حال یہ رسول کریم ﷺکے معجزات ہیں جو جس طرح ثابت ہیں اسی طرح ان پر ایمان لانا ضروری ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول کا مطلب یہ ہے کہ تم ہر نشانی اور خرق عادت کو تخویف سمجھتے ہو۔
یہ تمہاری غلطی ہے۔
اللہ کی بعض نشانیاں تخویف کی بھی ہوتی ہیں جیسے گہن و غیرہ اور بعض نشانیاں جیسے کھانے پینے میں برکت یہ تو عنایت اور فضل الٰہی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3579 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3579 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3579. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم تو معجزات کو باعث برکت خیال کرتے تھے اور تم سمجھتے ہو کہ(کفارکو) ڈرانے کے لیے ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے کہ پانی کم ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: ’’کچھ بچا ہوا پانی تلاش کرلاؤ۔ ‘‘چنانچہ لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ آپ نے اپنا دست مبارک پانی میں ڈال دیا اور اس کے بعد فرمایا: ’’مبارک پانی کی طرف آؤ اور برکت تو اللہ طرف سے ہے۔ ‘‘میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ کی انگشتہائے مبارک سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ اور(بسا اوقات) کھانا کھاتے وقت ہم کھانے میں سے تسبیح کی آواز سنتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3579]
حدیث حاشیہ:

صحابہ کرام ؓ کو کھانے کی تسبیح سنانا رسول اللہ ﷺ کا معجزہ تھا ویسے تو قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ﴾ ’’اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔
‘‘ (بني إسرائیل: 44/17)
ایک ددفعہ رسول اللہ ﷺ نے سات کنکریاں لیں تو انھوں نے آپ کے ہاتھ میں بہ آواز بلند تسبیح کہی پھر آپ نے انھیں حضرت ابو بکر ؓ کے ہاتھ میں رکھ دیا پھر حضرت عمر ؓ کے ہاتھ میں اس کے بعد حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ میں رکھا انھوں نے ہر ایک ہاتھ میں تسبیح کہی۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 59/2، طبع دارالحرمین و فتح الباری: 723/6)

قرآن کریم میں ہے۔
’’معجزے تو ہم صرف ڈرانے کی خاطر بھیجتے ہیں۔
‘‘ (بني إسرائیل: 59/17)
اس آیت سے کچھ لوگوں نے موقف اختیارکیا کہ ہر نشانی ڈرانے کے لیے ہوتی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ان کی تردید کی کہ ہر نشانی کو ڈرانے کے لیے سمجھنا محل نظر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کچھ نشانیاں واقعی ڈرانے کے لیے ہیں اور کچھ نشانیاں مثلاً: کھانے پینے میں برکت یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور اس کی عنایت ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3579 سے ماخوذ ہے۔