حدیث نمبر: 3624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا : أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِمَكَّةَ حَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا ، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الفضائل 1 (2277) ( تحفة الأشراف : 2165) ، و مسند احمد (5/59، 95) ، وسنن الدارمی/المقدمة 4 (20) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2277 | سنن دارمي: 20 | معجم صغير للطبراني: 843

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3624]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ایک معجزہ تھا جو آپﷺ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3624 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2277 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں،مکہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں،جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5939]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: پتھر کا آپ کو نبوت کے اعلان سے پہلے سلام کرنا خرق عادت ہے اور اعلان نبوت سے پہلے خرق عادت کو ارہاص کہتے ہیں اور اعلان نبوت کے بعد خرق عادت کو معجزہ کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2277 سے ماخوذ ہے۔