حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ ، وَلَمَّا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے پہل ) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہو گئی ، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں وہ نور ایمان باقی نہیں رہا جو آپ کی زندگی میں تھا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1631)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الجنائز 65 (1631) ( تحفة الأشراف : 268) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے پہل) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہو گئی، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3618]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان میں وہ نور ایمان باقی نہیں رہا جو آپﷺ کی زندگی میں تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3618 سے ماخوذ ہے۔