حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : " مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ , وَصِفَةُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ " ، فَقَالَ أَبُو مَوْدُودٍ : وَقَدْ بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مَوْضِعُ قَبْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، هَكَذَا قَالَ عُثْمَانُ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَالْمَعْرُوفُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَدَنِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے ۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا : حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس معنی کی کئی احادیث وارد ہیں، مگر سب پر کلام ہے، اور مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، تو پینتالیس زندہ رہ کر جب وفات پائیں گے تو قبر نبوی کے پاس دفن ہوں گے، «واللہ اعلم» ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3617
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5772)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5336) (ضعیف) (سند میں عثمان بن ضحاک ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان`
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا: حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3617]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس معنی کی کئی احادیث وارد ہیں، مگر سب پر کلام ہے، اور مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں جب عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے، تو پینتالیس زندہ رہ کر جب وفات پائیں گے تو قبر نبوی کے پاس دفن ہوں گے، واللہ اعلم۔

نوٹ:
(سند میں عثمان بن ضحاک ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3617 سے ماخوذ ہے۔