حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ , فَأُكْسَى الْحُلَّةً مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ أَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ يَقُومُ ذَلِكَ الْمَقَامَ غَيْرِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا ، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا ، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3611
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5766) // ضعيف الجامع الصغير (1311) // , شیخ زبیر علی زئی: (3611) إسناده ضعيف, أبو خالد الدالاني يزيد مدلس وعنعن (د 202) و أحاديث مسلم (196 ، 2278) وغيره تغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 13556) (ضعیف) (سند میں حسین بن یزید کوفی، لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2278 | سنن ابي داود: 4673

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3611]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حسین بن یزید کوفی، لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3611 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2278 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں قیامت کے دن آدم ؑ کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے آپ کی قبر پھٹے گی اور سب سے پہلے آپ سفارش کریں گے اور سب سے پہلے آپ کی سفارش قبول ہوگی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5940]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سيد: اس کو کہتے ہیں، جو خیر اور خوبی میں تمام قوم پر فائق اور برتر ہو یا قوم مصائب اور مشکلات میں جس کی پناہ میں آئے اور وہ ان کے معاملات کو نپٹائے، مصائب اور مشکلات کو برداشت کر کے قوم کا تحفظ کرے اور آپ کی اس سرداری کا ظہور قیامت کے دن تمام انسانوں کے سامنے ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2278 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4673 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4673]
فوائد ومسائل:
آپ ؐ نے حقائق بیان فرمائے، لیکن ایسا انداز ہر گز اختیار نہیں فرمایا جس میں دوسرے انبیا کی تنفیض ہو یا کوئی تقابل ہی سامنے آئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4673 سے ماخوذ ہے۔