حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا ، وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا وَفَدُوا ، وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا ، لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي ، وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي وَلَا فَخْرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب لوگ ( قبروں سے ) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا ، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا ، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3610
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5765) // ضعيف الجامع الصغير (1309) // , شیخ زبیر علی زئی: (3610) إسناده ضعيف, ليث ضعيف (تقدم: 218)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 831) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن دارمي: 49 | سنن دارمي: 53

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3610]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3610 سے ماخوذ ہے۔