سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: اللہ عزوجل کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي ، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَيُرْوَى عَنِ الْأَعْمَشِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ : مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا يَعْنِي بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ ، وَهَكَذَا فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالُوا : إِنَّمَا مَعْنَاهُ يَقُولُ : إِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ الْعَبْدُ بِطَاعَتِي وَمَا أَمَرْتُ أُسْرِعُ إِلَيْهِ بِمَغْفِرَتِي وَرَحْمَتِي .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کہتا ہے : میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتا ہوں ۱؎ ، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت ( لوگوں ) میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں ( یعنی فرشتوں میں ) اگر کوئی مجھ سے قریب ہونے کے لیے ایک بالشت آگے بڑھتا ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے میں ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہوں ، اور اگر کوئی میری طرف ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں ، اگر کوئی میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس حدیث کی تفسیر میں اعمش سے مروی ہے کہ اللہ نے یہ جو فرمایا ہے کہ ” جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں “ ، اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنی رحمت و مغفرت کا معاملہ اس کے ساتھ کرتا ہوں ، ۳- اور اسی طرح بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد جب بندہ میری اطاعت اور میرے مامورات پر عمل کر کے میری قربت حاصل کرنا چاہتا ہے تو میں اپنی رحمت و مغفرت لے کر اس کی طرف تیزی سے لپکتا ہوں ۔
وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ سورة البقرة آية 152 قَالَ : اذْكُرُونِي بِطَاعَتِي أَذْكُرْكُمْ بِمَغْفِرَتِي . حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الرَّمْلِيُّ , عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِهَذَا . سعید بن جبیر اس آیت : «فاذكروني أذكركم» کے بارے میں فرماتے ہیں : «اذكروني» سے مراد یہ ہے کہ میری اطاعت کے ساتھ مجھے یاد کرو میں تمہاری مغفرت میں تجھے یاد کروں گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتا ہوں ۱؎، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت (لوگوں) میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں (یعنی فرشتوں میں) اگر کوئی مجھ سے قریب ہونے کے لیے ایک بالشت آگے بڑھتا ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے میں ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہوں، اور اگر کوئی میری طرف ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو میں اس ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3603]
وضاحت:
1؎:
یعنی: اگر مومن بندہ اپنے تئیں اللہ سے یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دیگا، میرے اوپر رحمت کرے، مجھے دین ودنیا میں بھلائی سے بہرہ ور کریگا، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس حسن ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہے، بعض شارحین کہتے ہیں: یہاں (ظن‘‘ گمان نہیں (یقین) کے معنی میں ہے، یعنی: بندہ جیسا اللہ سے یقین رکھتا ہے اللہ ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔
برائی کاہرگز گمان نہ رکھے۔
جنت ملنے پربھی پورا یقین رکھے۔
اللہ اپنی رحمت سےاس کے ساتھ وہی کرے گا جو اس کا گمان ہے۔
حدیث بھی کلام الہی ہے یہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے۔
1۔
پوری حدیث اس طرح ہے کہ جب بندہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں۔
اگر وہ مجھے بھری محفل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اس سے بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں۔
(صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7405)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر بندہ میرے متعلق یہ گمان رکھتا ہے کہ میں اس کے گناہ معاف کر کے اس کے ساتھ اپنے فضل وکرم کا معاملہ کروں گا تو میں اس کے گناہ معاف کر کے اس پر اپنا فضل وکرم کرتے ہوئے رحمت وبرکت سے نوازتا ہوں، اگر اس کے برعکس میرے متعلق یہ گمان رکھتا ہے کہ میں اسے سزا دوں تو میں اسے سزا سے دو چار کر دیتا ہوں۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام قرآن مجید کے علاوہ بھی ہے، چنانچہ تمام احادیث قدسیہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہیں کیونکہ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی اور اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق اور اس کی صفت ہے جواس کی مشیت سے متعلق ہے۔
واللہ أعلم۔
اگر یہ گمان رکھے گا کہ میں اس کے قصور معاف کر دوں گا تو ایسا ہی ہوگا۔
اگر یہ گمان رکھے گا کہ میں اس کو عذاب کروں گا تو ایسا ہی ہوگا۔
حدیث سے یہ نکلا کہ رجا کا جانب بندے میں غالب ہونا چاہئے اور پروردگار کے ساتھ نیک گمان رکھنا چاہئے۔
اگر گناہ بہت ہیں تو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ غفور الرحیم ہے۔
اس کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہئے۔
(إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ) (الزمر: 53)
1۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر میرا بندہ میرے متعلق یہ گمان رکھتا ہے کہ میں اس کے گناہ معاف کر دوں تو اس کے گمان کے مطابق بندے کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہوں اور اگرمیرے متعلق اس کے برعکس یہ گمان رکھتا ہے کہ میں اسے سزا دوں تو میں اسے سزا دیتا ہوں۔
اس میں یہ اشارہ ہے کہ خوف کی بجائے امید کا پہلو غالب رہنا چاہیے۔
(فتح الباري: 472/13)
2۔
اس حدیث میں بھی لفظ نفس کو ذات باری تعالیٰ کے لیے ثابت کیا گیا ہے۔
اس حدیث کے مطابق اگر ہندہ پوشیدہ طور پر اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس مجلس سے اعلیٰ اور افضل مجلس میں اس کا تذکرہ کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے معزز فرشتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی لمحہ بھر بھی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ وہی کچھ کرتے ہیں جو انھیں حکم دیا جاتا ہے۔
بندے کی طرف سے بڑا گناہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اپنے آپ کو بڑا اونچا خیال کرے اور اپنے رب کو فراموش کردے، اس کے برعکس جب بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوکر خود کو گرا دیتا ہے تو اس سجدے کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بہت قریب ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے، جس قدر بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرے گا اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا۔
اگرچہ اس کا بدن زمین پر ہوتا ہے لیکن اس کا دل اللہ تعالیٰ کےقرب وجوار میں پہنچ جاتا ہے۔
ایک دوسرے کے قریب ہونے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ دونوں اپنے بدن سے حرکت کریں بلکہ ایک کا دوسرے سے قریب ہونا اس بات کو لازم ہے کہ دوسرا بھی اس کے قریب ہو جائے جیسا کہ انسان جب مکے کے قریب پہنچ جاتا ہے تو یوں کہا جاتا ہے کہ مکہ اس کے بالکل قریب آگیا ہے۔
بہرحال اس قسم کے قرب کے لیے دونوں جانب سے حرکت ضروری نہیں۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 269/1)
3۔
مختلف احادیث کے پیش نظر بندے سے اللہ تعالیٰ کے قرب کی دو قسمیں ہیں:۔
اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے دلوں کے قریب ہونا اور اہل ایمان کے دلوں کا اللہ تعالیٰ کےقریب ہونا۔
یہ ایسی حقیقت ہے کہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
دلوں میں جس قدر ایمان، معرفت الٰہیہ اور اللہ تعالیٰ کی خشیت ہوگی اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی منازل طے کریں گے۔
۔
اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کا ایک خاص قرب معلوم ہوتا ہے جس طرح عرفہ کے دن اور ہررات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتا ہے۔
یہ ایسا قرب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مستوی رہتے ہوئے بندوں کے قریب ہو جاتا ہے جہمیہ، معتزلہ اور اشاعرہ اس قرب خاص کا انکار کرتے ہیں اور ان کے انکار کی کوئی علمی بنیاد نہیں ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 270/1)
انا عند ظن عبدي بي: میں اپنے بندے کے ساتھ، میرے بارے میں اس کا جو ظن ہے، اس کے مطابق سلوک کرتا ہوں، اگر وہ دعا کرتے وقت قبولیت کا گمان رکھتا ہے، توبہ کے وقت اس کی قبولیت کا گمان رکھتا ہے اور استغفار کے وقت بخشش کی امید رکھتا ہے، عبادت پر اجروثواب کی امید رکھتا ہے تو میں اس کے ان گمانوں کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں اور ظاہر ہے، حسن ظن حسن عمل کے نتیجہ میں صادق اور درست ہوتا ہے، بدعملی سے صحیح حسن ظن پیدا نہیں ہو سکتا، کاشتکار محنت و مشقت برداشت کر کے اچھی فصل کی امید رکھ سکتا ہے، گھر بیٹھ کر فصل کاشت کرنے کی امید نہیں رکھ سکتا، ایک طالب علم، محنت و کوشش کر کے اچھے نمبروں کے حصول کی امید کر سکتا ہے، بدمحنت اور کام چور ہو کر اچھے نمبروں کی امید نہیں رکھ سکتا۔
"وانا معه حين يذكرني: جب وہ مجھے زبان سے، دل سے، عمل سے کسی بھی طرح یاد کرتا ہے تو میری رحمت و توفیق اور راہنمائی اور نگہداشت و نگہبانی اسے حاصل ہوتی ہے اور جس مقصد کے لیے مجھے یاد کرتا ہے، میں اسے پورا کرتا ہوں اور میں اس کی پشت پر ہوتا ہوں، کیونکہ اس کے علم و احاطہ میں تو ہر انسان، ہر وقت ہے، وہ کافر ہو یا مسلم، اس کو یاد کرے یا بھلائے، یاد کرنے پر، رحمت، توفیق، رہنمائی اور نگہداشت حاصل ہوتی ہے۔
ان ذكرني في نفسي، ذكرته في نفسي: اگر وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے، یعنی الگ تھلگ یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے طور پر الگ تھلگ یاد رکھتا ہوں، اس کی حفاظت و نگہداشت کرتا ہوں، اس کو اجروثواب دیتا ہوں، اللہ کا نفس، اس خالق کی شان کے مطابق ہے اور انسان کا نفس اس کے مخلوق ہونے کے مطابق ہے، لیکن اس کی کیفیت و ماہیت کو جاننا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے، نہ اس کی تاویل کی ضرورت ہے۔
ان ذكرني في ملاء: اگر وہ میرا ذکر دوسروں کی موجودگی میں کرتا ہے، دوسروں میں بیٹھ کر مجھے بھول نہیں جاتا، یا اپنے کاروبار اور معاملات میں یاد رکھتا ہے تو میں فرشتوں میں اس کا ذکر خیر اور تعریف کرتا ہوں۔
ان تقرب مني شبرا: اگر وہ میری اطاعت و فرمانبرداری کر کے میر اتقرب چاہتا ہے تو میں اس کے عمل سے بڑھ کر اس کے قریب ہوتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ اپنی رحمت، توفیق اور اعانت و حفاظت کا حقدار قرار دیتا ہوں اور اسے مزید نیکیوں اور اطاعت کی توفیق بخشتا ہوں، شبر، بالشت ذراع، ہاتھ، باع، دو ذراع، یعنی دونوں ہاتھ کے پھیلاؤ کے برابر، اس کے لیے شبر، ذراع، باع، مشی (چلنا)
هرولة (دوڑنا)
کے الفاظ انسانی محاورہ کے مطابق استعمال ہوئے ہیں، انسان والی کیفیت و صورت مقصود نہیں ہے، اس کی رحمت کی وسعت کا اظہار مقصود ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2388]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے، لیکن عمل کے بغیرکسی بھی چیز کی امید نہیں کی جاسکتی ہے، گویا اللہ کا معاملہ بندوں کے ساتھ ان کے عمل کے مطابق ہوگا، بندے کا عمل اگر اچھا ہے تو اس کے ساتھ اچھا معاملہ اوربرے عمل کی صورت میں اس کے ساتھ برامعاملہ ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اگر وہ میرا دل میں ذکر کرتا ہے تو میں بھی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا ذکر لوگوں میں کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کی جانب دوڑ کر آتا ہوں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3822]
فوائد و مسائل: (1)
اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھنا چا ہیے۔
حسن ظن کا صحیح طریقہ یہ ہےکہ نیک اعمال کیے جائیں اور ان کی قبولیت کی امید رکھی جائے۔
گناہوں سے توبہ کی جائے اور بخشش کی امید رکھی جائے۔
گناہوں کے راستے پر بھاگتے چلے جانا اور اللہ کی رحمت کی امید رکھنا نادانی ہے۔
(3)
اس میں بالواسطہ عمل کی تلقین ہے کیونکہ عمل کے بغیر کی امید نہیں رکھی جا سکتی، لہٰذا اچھے عمل کرنے والا ہی اللہ سے اچھی امید رکھ سکتا ہے۔
برے عمل کرنے والا بری امید ہی رکھ سکتا ہے۔
(4)
جماعت میں ذکر کرنے سے مراد خود ساختہ اجتماعی ذکر نہیں بلکہ یا تو یہ مراد ہے کہ جیسے نماز کے بعد سب لوگ اپنے اپنے طور پر مسنون دعائیں اور اذکار پڑھتے ہیں یا اللہ کی رحمتوں، نعمتوں اور اس کے احکام وغیرہ کا ذکر ہے، یعنی ایک شخص بیان کرے اور دوسرے سنتے رہیں۔