حدیث نمبر: 3601
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ مَكْحُولٌ : فَمَنْ قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ أَدْنَاهُنَّ الْفَقْرُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ، مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَة .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو ، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے “ ۔ مکحول کہتے ہیں : جس نے کہا : «لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه» تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کر دیتا ہے ، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر ( و محتاجی ) ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس کی سند متصل نہیں ہے ، مکحول نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قول مكحول " فمن قال ... " فإنه مقطوع، الصحيحة (105 و 1528) , شیخ زبیر علی زئی: (3601) إسناده ضعيف, أبو خالد الأحمر عنعن (تقدم: 3349) والحديث المرفوع صحيح بالشواه . انظر صحيح ابن حبان (الموارد: 2339، سنده حسن ) وغيره
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 14621) (صحیح) (سند میں مکحول اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لیے مکحول کا قول، سنداً ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، الصحیحة 105، 1528)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´«لا حول ولا قوة إلا بالله» کی فضیلت کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔‏‏‏‏" مکحول کہتے ہیں: جس نے کہا: «لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه» تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کر دیتا ہے، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر (و محتاجی) ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3601]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں مکحول اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لیے مکحول کا قول، سنداً ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، الصحیحة: 105، 1528)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3601 سے ماخوذ ہے۔