حدیث نمبر: 3600
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ فُضُلًا عَنْ كُتَّابِ النَّاسِ ، فَإِذَا وَجَدُوا أَقْوَامًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا : هَلُمُّوا إِلَى بُغْيَتِكُمْ ، فَيَجِيئُونَ فَيَحُفُّونَ بِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ يَحْمَدُونَكَ , وَيُمَجِّدُونَكَ , وَيَذْكُرُونَكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَهَلْ رَأَوْنِي ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْكَ لَكَانُوا أَشَدَّ تَحْمِيدًا , وَأَشَدَّ تَمْجِيدًا , وَأَشَدَّ لَكَ ذِكْرًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : وَأَيُّ شَيْءٍ يَطْلُبُونَ ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : يَطْلُبُونَ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيَقُولُ : وَهَلْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : لَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا لَهَا أَشَدَّ طَلَبًا ، وَأَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ يَتَعَوَّذُونَ ؟ قَالُوا : يَتَعَوَّذُونَ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَيَقُولُ : هَلْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَا ، فَيَقُولُ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَيَقُولُونَ : لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا مِنْهَا أَشَدَّ هَرَبًا , وَأَشَدَّ مِنْهَا خَوْفًا , وَأَشَدَّ مِنْهَا تَعَوُّذًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ لَمْ يُرِدْهُمْ إِنَّمَا جَاءَهُمْ لِحَاجَةٍ ، فَيَقُولُ : هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى لَهُمْ جَلِيسٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کے نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں ، جب وہ کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں : آؤ آؤ یہاں ہے تمہارے مطلب و مقصد کی بات ، تو وہ لوگ آ جاتے ہیں ، اور انہیں قریبی آسمان تک گھیر لیتے ہیں ، اللہ ان سے پوچھتا ہے : ” میرے بندوں کو کیا کام کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہو ؟ “ وہ کہتے ہیں : ہم انہیں تیری تعریف کرتے ہوئے تیری بزرگی بیان کرتے ہوئے اور تیرا ذکر کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں ، وہ کہتا ہے : ” کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ( یا بن دیکھے ہوئے ہی میری عبادت و ذکر کئے جا رہے ہیں ) “ وہ جواب دیتے ہیں : نہیں ، اللہ کہتا ہے : ” اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو کیا صورت و کیفیت ہو گی ؟ “ وہ جواب دیتے ہیں ، وہ لوگ اگر تجھے دیکھ لیں تو وہ لوگ اور بھی تیری تعریف کرنے لگیں ، تیری بزرگی بیان کریں گے اور تیرا ذکر بڑھا دیں گے ، وہ پوچھتا ہے : ” وہ لوگ کیا چاہتے اور مانگتے ہیں ؟ “ فرشتے کہتے ہیں : وہ لوگ جنت مانگتے ہیں ، اللہ پوچھتا ہے ” کیا ان لوگوں نے جنت دیکھی ہے ؟ “ وہ جواب دیتے ہیں : نہیں ، وہ پوچھتا ہے : ” اگر یہ دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو گی ؟ “ وہ کہتے ہیں : ان کی طلب اور ان کی حرص اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی ، وہ پھر پوچھتا ہے : ” وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں “ ، وہ کہتے ہیں : جہنم سے ، وہ پوچھتا ہے : ” کیا ان لوگوں نے جہنم دیکھ رکھی ہے ؟ “ وہ کہتے ہیں : نہیں ، وہ پوچھتا ہے : ” اگر یہ لوگ جہنم کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو گی ؟ “ وہ کہتے ہیں : اگر یہ جہنم دیکھ لیں تو اس سے بہت زیادہ دور بھاگیں گے ، زیادہ خوف کھائیں گے اور بہت زیادہ اس سے پناہ مانگیں گے ، پھر اللہ کہے گا ” میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کی مغفرت کر دی ہے “ ، وہ کہتے ہیں : ان میں فلاں خطاکار شخص بھی ہے ، ان کے پاس مجلس میں بیٹھنے نہیں بلکہ کسی ضرورت سے آیا تھا ، ( اور بیٹھ گیا تھا ) اللہ فرماتا ہے ، ” یہ ایسے ( معزز و مکرم ) لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشیں بھی محروم نہیں رہ سکتا ( ہم نے اسے بھی بخش دیا ) “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4015، و12540) ، و مسند احمد (2/251) (صحیح)»