سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب فِي الْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ باب: دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدَانَ الْقُبِّيِّ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ : الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ ، وَالْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ ، وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ ، وَيَقُولُ الرَّبُّ : وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ ، وَسَعْدَانُ الْقبِّيُّ هُوَ سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَأَبُو مُجَاهِدٍ هُوَ سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، وَأَبُو مُدِلَّةَ هُوَ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَيُرْوَى عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی : ایک روزہ دار ، جب تک کہ روزہ نہ کھول لے ، ( دوسرے ) امام عادل ، ( تیسرے ) مظلوم ، اس کی دعا اللہ بدلیوں سے اوپر تک پہنچاتا ہے ، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور رب کہتا ہے : میری عزت ( قدرت ) کی قسم ! میں تیری مدد کروں گا ، بھلے کچھ مدت کے بعد ہی کیوں نہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- سعدان قمی یہ سعدان بن بشر ہیں ، ان سے عیسیٰ بن یونس ، ابوعاصم اور کئی بڑے محدثین نے روایت کی ہے
۳- اور ابومجاہد سے مراد سعد طائی ہیں
۴- اور ابومدلہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں ہم انہیں صرف اسی حدیث کے ذریعہ سے جانتے ہیں اور یہی حدیث ان سے اس حدیث سے زیادہ مکمل اور لمبی روایت کی گئی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی: ایک روزہ دار، جب تک کہ روزہ نہ کھول لے، (دوسرے) امام عادل، (تیسرے) مظلوم، اس کی دعا اللہ بدلیوں سے اوپر تک پہنچاتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور رب کہتا ہے: میری عزت (قدرت) کی قسم! میں تیری مدد کروں گا، بھلے کچھ مدت کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3598]
نوٹ:
(’’اَلْإِمَامُ الْعَادِلُ‘‘ کے لفظ سے ضعیف ہے، اور ’’اَلمُسَافِرُ‘‘ کے لفظ سے صحیح ہے، سند میں ابومدلہ مولی عائشہ'' مجہول راوی ہے، نیز یہ حدیث ابوہریرہ ہی کی صحیح حدیث جس میں ’’اَلمُسُافِرُ‘‘ کا لفظ ہے کے خلاف ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 1358، والصحیحة رقم: 596)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آخر کیا وجہ ہے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری رہتی ہے اور ہم دنیا سے بیزار ہوتے ہیں اور آخرت والوں میں سے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہو کر اپنے بال بچوں میں چلے جاتے ہیں اور ان میں گھل مل جاتے ہیں تو ہم اپنے دلوں کو بدلا ہوا پاتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر تم اسی حالت و کیفیت میں رہو جس حالت و کیفیت میں میرے پاس سے نکلتے ہو تو تم سے فرشتے تمہارے گھروں میں ملاقات کریں، اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق کو پیدا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2526]
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ گناہ تو ہر انسان سے ہوتا ہے، لیکن وہ لوگ اللہ کو زیادہ پسند ہیں جو گناہ کرکے اس پر اڑتے نہیں بلکہ توبہ و استغفار کرتے ہیں، اور اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کے ساتھ گڑ گڑاتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں، اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ اللہ کو گناہ کا ارتکاب کرنا پسند ہے، بلکہ اس حدیث کا مقصد تو بہ و استغفار کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔
نوٹ:
(مؤلف نے اس سند کو ضعیف اور منقطع قرار دیا ہے، سند میں زیاد الطائی مجہول راوی ہے، جس نے ابوہریرہ سے مرسل روایت کی ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت فرمائی، پھر ابومدلہ کی روایت کا ذکر کیا، جو ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث کے اکثر فقرے ثابت ہیں، حافظ ابن حجر نے ابومدلہ مولی عائشہ کو مقبول کہا ہے، حدیث میں مما خلق الخلق کا فقرہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، نیز ثلاث لا ترد...آخر حدیث تک بھی ضعیف ہے (ضعیف الجامع 2592، والضعیفة 1359)، لیکن حدیث کا پہلا فقرہ صحیح ہے، جو صحیح مسلم (التوبة: 2 /2749)، ترمذی (2514، 2452)، ابن ماجة (4236) اور مسند أحمد (4/187، 346) میں حنظلہ الاسیدی سے مروی ہے اور دوسرے فقرہ ولو لم تذنبوا کی مختلف طرق سے البانی نے تخریج کرکے اس کی تصحیح کی ہے: الصحیحة رقم 967، 968، 969، 970 و 1950، 1951، 1965) اور الجنة بناؤها لبنة...ولا يفنى شبابهم کا فقرہ بھی حسن ہے (السراج المنیر8083)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ” میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1752]
فوائد و مسائل:
(1)
روزہ کھولنے کا وقت دعا کی قبولیت کا وقت ہے اس لئے اس مو قع پر اپنے لئے اور اپنے اہل و عیا ل کے لئے خیرو برکت اور ضرورت پوری ہونے کی دعا کرنا مناسب ہے۔
(2)
ظلم سےپرہیز کرنا انتہائی ضروری ہے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ظلم قیامت کے دن تاریکیاں بن جائے گا (صحیح البخاري، المظالم، باب الظلم ظلمات یوم القیامة، حدیث: 2447)
(3)
مظلو م کی دعا سے مراد ظالم کے خلا ف بد دعا ہے یا ظلم سے نجات کے لئے اللہ سے دعا ہے۔
(4)
بادل سے مراد وہ بادل ہے جواس آیت مبا رکہ میں مذکور ہے۔
﴿وَيَوْمَ تَشَقَّقُ ٱلسَّمَآءُ بِٱلْغَمَـٰمِ وَنُزِّلَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ تَنزِيلًا﴾ (الفرقان، 25: 25)
’’جس دن بادلوں کے ساتھ آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے پے در پے نیچے اتارے جا ئیں گے۔‘‘
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دلوں کی کیفیت بدلتی رہتی ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ۔ ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے، ہمیشہ انسان کو اچھے ماحول میں رہنا چاہیے، تا کہ اس کا دل ایمان کی مٹھاس سے لبریز رہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو ہمیشہ ایمان سے رہتا ہے، اچھی بات کرتا ہے، تو فرشتے بھی اس کو پسند کرتے ہیں، اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سونا چاندی اور کستوری بہت قیمتی چیزیں ہیں۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مجلس اکٹھی کر کے دینی باتیں سمجھنی سمجھانی چاہئیں