حدیث نمبر: 3597
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ أَقُولَ : سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں : «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» ” اللہ پاک ہے ، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے “ ، کہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 10 (2695) ( تحفة الأشراف : 12511) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2695

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» اللہ پاک ہے، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے ، کہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3597]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اللہ پاک ہے، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے کہتا ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3597 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2695 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس دنیا کی وہ تمام چیزیں جن پر سورج طلوع ہوتا ہے،ان سب چیزوں کےمقابلہ میں مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ"سبحان الله والحمدلله ولا الٰه الاالله والله اكبر کہوں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6847]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ چار کلمات اس قدر جامع ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مثبت و منفی صفات پر حاوی ہیں، اللہ کے وہ تمام اسماء جو اللہ کی ذات پاک سے ہر عیب و نقص کی نفی کرتے ہیں، سبحان الله کا مفہوم ان سب پر حاوی ہے اور وہ تمام اسمائے حسنیٰ جو اللہ تعالیٰ کی ایجابی صفات کمال پر دلالت کرتے ہیں، وہ سب الحمدلله کے احاطے میں آ جاتے ہیں، اس طرح جو اسمائے حسنیٰ اس کی وحدانیت و یکتائی اور اس کی شان بے مثال پر دلالت کرتے ہیں، ان کی پوری ترجمانی کلمہ لا اله الا الله کرتا ہے اور وہ اسمائے حسنیٰ جن کا مفہوم و مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وہم و خیال اور گمان و قیاس سے بلندوبالا ہے، ان کی تعبیر و بیان، اللہ اکبر کا کلمہ کر رہا ہے، اس لیے جس نے دل کے شعور اور یقین کے ساتھ یہ کلمات کہے، اس نے اللہ کی ساری ثناء اور صفات بیان کر دیں، اس لیے یہ چار کلمات، اپنی قدروقیمت اور عظمت و برکت کے لحاظ سے بلاشبہ اس ساری کائنات سے فائق و برتر ہیں جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، لیکن یہ خیال رہے، ان کلمات کے فضائل انہیں لوگوں کو حاصل ہوں گے جو اللہ کے احکام کے پابند ہیں اور اس کی منہیات سے اجتناب کرتے ہیں، لیکن جو لوگ اللہ کے احکام و تعلیمات کو نظرانداز کرتے ہیں اور محرمات کا ارتکاب کرتے ہیں اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، وہ محض ان کلمات کو زبان سے کہہ کر، اس اجروثواب کے مستحق نہیں ہو سکتے، جو ان احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2695 سے ماخوذ ہے۔