حدیث نمبر: 3596
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ " ، قَالُوا : وَمَا الْمُفْرِدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمُسْتَهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ ، يَضَعُ الذِّكْرُ عَنْهُمْ أَثْقَالَهُمْ فَيَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِفَافًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! یہ ہلکے پھلکے لوگ کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ ، ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3596
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (3690) // ضعيف الجامع الصغير (3240) // , شیخ زبیر علی زئی: (3596) إسناده ضعيف, عمر بن راشد: ضعيف (تقدم: 2000) والحديث صحيح بشواهد دون قوله: ”يضع الذكر“ إلخ
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15411) (ضعیف) (سند میں ’’ عمر بن راشد ‘‘ ضعیف ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2676

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ ہلکے پھلکے لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ، ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3596]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’عمر بن راشد‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3596 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2676 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے راستہ پر چلے جارہے تھے کہ آپ کا جُمدان نامی پہاڑ پر گزرہوا تو آپ نے فرمایا:"چلتے رہو۔یہ جُمدان ہے، الگ تھلگ رہ جانے والے (مُفَرِدون)سبقت لے گئے" ساتھیوں نے پوچھا:(مُفَرِدُونَ)سےکیا مُرادہے؟اے اللہ کےرسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!آپ نے فرمایا:"اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرداور بہت یاد کرنے والی عورتیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6808]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مُفرِد یا مُفرِد سے وہ انسان مراد ہے، جس کے ساتھی اور ہم جولی مر گئے ہیں اور وہ اکیلا الگ تھلگ رہ گیا ہے اور اَفرد الرجل، اس وقت کہتے ہیں، جب وہ سوجھ بوجھ کے بعد الگ تھلگ ہو کر اوامرونواہی کے امتثال و پابندی کے لیے یکسو ہو جائے تو معنی ہوا جو لوگ خلوت نشینی اختیار کرتے ہوئے لوگوں کی مجالس سے بچ کر ذکر الٰہی میں وقت صرف کرتے ہیں، وہ مرد ہوں یا عورت، وہ اجروثواب کی بازی جیت گئے اور اللہ کی قبولیت و رضا کے بڑے مراتب و درجات حاصل کر گئے اور بہت آگے بڑھ گئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2676 سے ماخوذ ہے۔