سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِيمَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ باب: جو کسی قوم کی امامت کرے، اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔
حدیث نمبر: 359
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ، قَالَ : كَانَ يُقَالُ : " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اثْنَانِ ، امْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا ، وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ " . قَالَ هَنَّادٌ ، قَالَ جَرِيرٌ ، قَالَ : مَنْصُورٌ : فَسَأَلْنَا عَنْ أَمْرِ الْإِمَامِ ، فَقِيلَ لَنَا : إِنَّمَا عَنَى بِهَذَا أَئِمَّةً ظَلَمَةً فَأَمَّا مَنْ أَقَامَ السُّنَّةَ فَإِنَّمَا الْإِثْمُ عَلَى مَنْ كَرِهَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن حارث بن مصطلق کہتے ہیں :` کہا جاتا تھا کہ قیامت کے روز سب سے سخت عذاب دو طرح کے لوگوں کو ہو گا : ایک اس عورت کو جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے ، دوسرے اس امام کو جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں ۔ منصور کہتے ہیں کہ ہم نے امام کے معاملے میں پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے مراد ظالم ائمہ ہیں ، لیکن جو امام سنت قائم کرے تو گناہ اس پر ہو گا جو اسے ناپسند کرے ۔