حدیث نمبر: 3587
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ وَبَسَطَ السَّبَّابَةَ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ نماز پڑھا رہے تھے ، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا ، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا ، انگلیاں بند کی تھیں ( یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی ) اور «سبابہ» ( شہادت کی انگلی ) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے : «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ” اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب`
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں (یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی) اور «سبابہ» (شہادت کی انگلی) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ” اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3587]
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں (یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی) اور «سبابہ» (شہادت کی انگلی) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ” اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3587]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے دلوں کے پھیرنے والے! میرا دل اپنے دین پر جما دے۔
نوٹ:
(اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، سند میں ’’عبداللہ بن معدان ابوسعدان‘‘ لین الحدیث ہیں، اور یہ حدیث اس بابت دیگر صحیح احادیث کے برخلاف ہے)
وضاحت:
1؎:
اے دلوں کے پھیرنے والے! میرا دل اپنے دین پر جما دے۔
نوٹ:
(اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، سند میں ’’عبداللہ بن معدان ابوسعدان‘‘ لین الحدیث ہیں، اور یہ حدیث اس بابت دیگر صحیح احادیث کے برخلاف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3587 سے ماخوذ ہے۔