حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَتِي خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَتِي ، وَاجْعَلْ عَلَانِيَتِي صَالِحَةً ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ صَالِحِ مَا تُؤْتِي النَّاسَ مِنَ الْمَالِ وَالْأَهْلِ وَالْوَلَدِ غَيْرِ الضَّالِّ وَلَا الْمُضِلِّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ، آپ نے فرمایا : ” کہو «اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من المال والأهل والولد غير الضال ولا المضل» ” اے اللہ ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے ۔ اور لوگوں کو جو مال تو بیوی اور بچے کی شکل میں دیتا ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (2504 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4097) // , شیخ زبیر علی زئی: (3586) إسناده ضعيف, أبو شيبة عبدالرحمن بن إسحاق الكوفي : ضعيف (تقدم: 741)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10515) (ضعیف) (سند میں ’’ ابو شیبہ ‘‘ مجہول راوی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب`
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من المال والأهل والولد غير الضال ولا المضل» اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے۔ اور لوگوں کو جو مال تو بیوی اور بچے کی شکل میں دیتا ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3586]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے۔
اور لوگوں کو جو مال تو بیوی اور بچے کی شکل میں دیتا ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں۔

نوٹ:
(سند میں ’’ابوشیبہ‘‘ مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3586 سے ماخوذ ہے۔