حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال : سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ زَاذَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْدُمُهُ , قَالَ : فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ان کے باپ ( سعد بن عبادہ ) نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کر دیا ، وہ کہتے ہیں : میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، آپ نے اپنے پیر سے ( مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتا دوں “ ، میں نے کہا : کیوں نہیں ضرور بتائیے ، آپ نے فرمایا : ” وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3581
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1746) , شیخ زبیر علی زئی: (3584) إسناده ضعيف / د 2632
تخریج حدیث «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 130 (355) ( تحفة الأشراف : 11097) ، و مسند احمد (3/422) (صحیح)»