حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ , فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ , ثُمَّ قُلْ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ , وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ , لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مُتَّ فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ " ، قَالَ : فَرَدَدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُ ، فَقُلْتُ : آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَقَالَ : قُلْ آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ . قَالَ : وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْبَرَاءِ ، وَلَا نَعْلَمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ ذِكْرَ الْوُضُوءُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ .´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ ، پھر داہنے کروٹ لیٹو ، پھر ( یہ ) دعا پڑھو : «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ” اے اللہ ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا ، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا ، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا ، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات ، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے “ ، پس اگر تو اپنی اس رات میں مر گیا تو فطرت ( اسلام ) پر مرے گا ، براء رضی الله عنہ کہتے ہیں : میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہو جائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا : «آمنت برسولك الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا : ” ( رسول نہ کہو بلکہ ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو ، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ، پھر داہنے کروٹ لیٹو، پھر (یہ) دعا پڑھو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ” اے اللہ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3574]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تونے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے۔
1۔
عنوان سابق میں اللہ تعالیٰ کا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ ہم کلام ہونا بیان ہوا تھا اور اس باب میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اپنے علم کے مطابق نازل کیا ہے اور یہ قرآن کریم حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر مبارک پر نازل ہوا جیسا کہ قرآن کریم میں اس کی صراحت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے گفتگو کی اور انھیں قرآن کریم اتارنے کا حکم دیا۔
اس طرح دونوں عنوانوں میں مناسبت ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اسے اتارا گیا ہے، پیدا نہیں کیا گیا۔
نازل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام حادث ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔
مخلوق کی صفات سے کسی طرح سے بھی مشابہ نہیں ہے۔
اس حدیث میں اس کتاب پر ایمان لانے کا ذکر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان ثابت کیا ہے۔
بہرحال قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل ہے اور وہ اس کا نازل کیا ہوا ہےکسی اعتبار سے بھی مخلوق نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ "، قَالَ: فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ قُلْتُ: وَرَسُولِكَ، قَالَ: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ . . . .»
”. . . براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہy، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹنے آؤ تو اس طرح وضو کرو جس طرح نماز کے لیے کرتے ہو۔ پھر داہنی کروٹ پر لیٹ کر یوں کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکا دیا۔ اپنا معاملہ تیرے ہی سپرد کر دیا۔ میں نے تیرے ثواب کی توقع اور تیرے عذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا۔ تیرے سوا کہیں پناہ اور نجات کی جگہ نہیں۔ اے اللہ! جو کتاب تو نے نازل کی میں اس پر ایمان لایا۔ جو نبی تو نے بھیجا میں اس پر ایمان لایا۔“ تو اگر اس حالت میں اسی رات مر گیا تو فطرت پر مرے گا اور اس دعا کو سب باتوں کے اخیر میں پڑھ۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دعا کو دوبارہ پڑھا۔ جب میں «اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت» پر پہنچا تو میں نے «ورسولك» (کا لفظ) کہہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں (یوں کہو) «ونبيك الذي أرسلت» . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ فَضْلِ مَنْ بَاتَ عَلَى الْوُضُوءِ:: 247]
سیدالمرسلین حضرت امام بخاری قدس سرہ نے کتاب الوضوء کی آیت کریمہ «إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ» [5-المائدة:6] سے شروع فرمایا تھا اور اب کتاب الوضو کو سوتے وقت وضو کرنے کی فضیلت پر ختم فرمایا ہے۔ اس ارتباط کے لیے حضرت امام قدس سرہ کی نظر غائر بہت سے امور پر ہے اور اشارہ کرنا ہے کہ ایک مرد مومن کی صبح اور شام، ابتدا و انتہا، بیداری و شب باشی سب کچھ باوضو ذکر الٰہی پر ہونی چاہئیے۔ اور ذکر الٰہی بھی عین اسی نہج اسی طور طریقہ پر ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیم فرمودہ ہے۔ اس سے اگر ذرا بھی ہٹ کر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو وہ عنداللہ مقبول نہ ہو گا۔ جیسا کہ یہاں مذکور ہے کہ رات کو سوتے وقت کی دعائے مذکورہ میں صحابی نے آپ کے تعلیم فرمودہ لفظ کو ذرا بدل دیا تو آپ نے فوراً اسے اس کی کمی و بیشی کو گوارا نہیں فرمایا۔ آیت کریمہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ» [49-الحجرات:1] کا یہی تقاضا اور دعوت اہل حدیث کا یہی خلاصہ ہے۔ تعجب ہے ان مقلدین جامدین پر جو محض اپنے مزعومہ مسالک کی حمایت کے لیے حضرت سید المحدثین امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی درایت و فقاہت پر لب کشائی کرتے ہیں اور آپ کی تخفیف و تنقیص کر کے اپنی دریدہ ذہنی کا ثبوت دیتے ہیں۔
کتاب الوضو ختم کرتے ہوئے ہم پھر ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ فن حدیث شریف میں حضرت امام بخاری قدس سرہ امت کے اندر وہ مقام رکھتے ہیں جہاں آپ کا کوئی مثیل و نظیر نہیں ہے۔ آپ کی جامع الصحیح یعنی صحیح بخاری وہ کتاب ہے جسے امت نے بالاتفاق «اصح الكتب بعد كتاب الله» قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ظاہر ہے کہ ائمہ مجتہدین رحمۃ اللہ علیہم کا بھی امت میں ایک خصوصی مقام ہے ان کی بھی ادنیٰ تحقیر گناہ کبیرہ ہے۔ سب کو اپنے اپنے درجہ پر رکھنا اور سب کی عزت کرنا تقاضائے ایمان ہے۔ ان میں سے کس کو کس پر فضیلت دی جائے اور اس کے لیے دفاتر سیاہ کئے جائیں یہ ایک خبط ہے۔ جو اس چودہویں صدی میں بعض مقلدین جامدین کو ہو گیا ہے۔ اللہ پاک نے پیغمبروں کے متعلق بھی صاف فرما دیا ہے۔ «تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ» [2-البقرة:253] پھر ائمہ کرام و اولیائے عظام و محدثین ذوی الاحترام کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ ان کے متعلق یہی اصول مدنظر رکھنا ہو گا۔
«هر گلے را رنگ و بوئے ديگر است»
یااللہ! کس منہ سے تیرا شکر ادا کروں کہ تو نے مجھ ناچیز حقیر فقیر گنہگار شرمسار ادنیٰ ترین بندے کو اپنے حبیب پاک گنبد خضراءکے مکین صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مقدس بابرکت کتاب کی خدمت کے لیے توفیق عطا فرمائی، یہ فضل تیرا محض و کرم ہے ورنہ «من آنم كه من مولائے كريم!»
اس مقدس کتاب کے ترجمہ و تشریحات میں نہ معلوم مجھ سے کس قدر لغزشیں ہوئی ہوں گی۔ کہاں کہاں میرا قلم جادہ اعتدال سے ہٹ گیا ہو گا۔
الہ العالمین! میری غلطیوں کو معاف فرما دے اور اس خدمت کو قبول فرما کر میرے لیے، میرے والدین و اساتذہ و اولاد و جملہ معاونین کرام و ہمدردان عظام کے لیے باعث نجات بنا دے اور اسے قبول عام عطا فرما کر اپنے بندوں بندیوں کے لیے باعث رشد و ہدایت فرما۔
الحمدللہ! کہ آج شروع ماہ جمادی الثانی 1387ھ میں بخاری شریف کے پہلے پارہ کے ترجمہ و تشریحات سے فراغت حاصل ہوئی۔ اللہ پاک پوری کتاب کا ترجمہ و تشریحات مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین اور قدر دانوں کو اس سے ہدایت اور ازدیاد ایمان نصیب کرے۔ «آمين.»
1۔
معلوم ہوا کہ ادعیہ مسنونہ اور اذکار ماثورہ میں جو الفاظ رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں ان میں تصرف درست نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے اللہ کی طرف سے جامع کلمات عطا ہوئے ہیں۔
اس جامیعت وخصومیت کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے حضرت براء بن عازب ؓ کو (نبيك)
کے بجائے (رسولك)
پڑھنے سے اس بنا پر منع فرمایا کہ نبی میں جو جامعیت ہے وہ رسول میں نہیں، کیونکہ رسول کا اطلاق فرشتوں پر بھی ہوا ہے، حالانکہ وہ نبی نہیں، نیز ان دعائیہ کلمات میں نبوت ورسالت کے دونوں اوصاف کا ذکر ہے، جبکہ (رسولك)
کہنے سے صرف ایک وصف کا ذکر ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 466/1)
اس حدیث سے قبل از نیند باوضو ہونے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، نیز واضح رہے کہ یہ وضو نماز کا نہیں بلکہ اسے وضوءِ احداث کہتے ہیں۔
حدیث میں ہر قسم کے وضو کو"شطر الإیمان" کا درجہ دیاگیا ہے۔
اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اگرکوئی شخص پہلے سے باوضو ہوتوکیا وہ بھی سونے کے وقت دوبارہ وضو کرے؟ اس کے متعلق حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ بظاہر حدیث الباب سے تجدید وضو کا مفہوم معلوم ہوتا ہے، یعنی اگرچہ وہ طہارت سے ہو پھر بھی وضو کرے، تاہم احتمال اس امر کا بھی ہے کہ نیند کے وقت امر وضو حالتِ حدث ہی کے ساتھ خاص ہو۔
(فتح الباري: 465/1)
علامہ عینی کی رائے یہ ہے کہ اگر پہلے سے باوضو ہے تو وہ پہلا وضو ہی کافی ہے، کیونکہ مقصود طہارت کی حالت میں سونا ہے، مبادا اگررات کو موت آجائے تو بے طہارت مرے، نیز اس وضو کی برکت سے اس کو اچھے اور سچے خواب نظرآئیں گے اور وہ شیطانی اثرات سے بھی محفوظ رہے گا۔
(عمدة القاري: 698/2)
3۔
دائیں جانب کو ترجیح دینا تمام مواقع میں شریعت کو زیادہ پسند ہے، اسی طرح سوتے وقت دائیں کروٹ پسند کی گئی ہے کہ ایسا کرنے سے دل معلق رہتا ہے۔
نیند کا استغراق نہیں ہوتا، اس صورت میں انسان سہولت اور عجلت سے بیدار ہوسکتا ہے۔
(الموت على الفِطْرَةِ)
کا مطلب یہ ہے کہ جس فطری حالت میں انسان گناہوں کے بغیر دنیا میں آیا تھا، اسی حالت پر گناہوں کی آلائش کے بغیر ہی واپس لوٹ جائے گا۔
واللہ أعلم۔
4۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھاہے کہ حضرت امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث پر کتاب الوضو کو اس لیے ختم کیا ہے کہ یہ انسان کے زمانہ بیداری کا آخری وضو ہوتا ہے، نیز حدیث کے مطابق کلمات مذکورہ کو بیداری کے آخری کلمات قراردیا ہے، لہذا اس سے امام بخاری ؒ نے ختم کتاب کی طرف اشارہ کردیا۔
(فتح الباري: 466/1)
امام بخاری ؒ کا طریقہ کار یہ ہے کہ کتاب کے اختتام پر آخرت کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور موت کی یاد دہانی کراتے ہیں، چنانچہ یہاں بھی (فَإِنْ مِتَّ)
کے الفاظ سے وضاحت کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کردیا۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلقین کردہ الفاظ میں نبوت اور رسالت دونوں منصب جمع ہو جاتے ہیں جبکہ صحابی نے جن الفاظ کو دہرایا اس میں صرف رسالت کا منصب آتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہی الفاظ ادا کرو جو میں نے تعلیم دیے ہیں۔
‘‘ (2)
اس سے ثابت ہوا کہ ادعیہ ماثورہ اور اذکار مسنونہ میں اپنی طرف سے کمی بیشی کرنا درست نہیں بلکہ انہی الفاظ پر اکتفا کیا جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں کیونکہ ان میں وہ خاصیت ہے جو دوسرے الفاظ میں نہیں، نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے رات کو با وضو سونے کی فضیلت بیان کی ہے۔
اس میں ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں اس فضیلت کی صراحت ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو آدمی رات باوضو ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سوتا ہے، پھر رات کو بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا کرتا ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5042)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ بستر پر دراز ہونے سے پہلے اپنے ازار اور تہبند کے کنارے سے اسے جھاڑے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد بستر پر کون سی چیز آئی۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6320)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں تین سنتوں کا بیان ہے: ٭ باوضو ہو کر سونا۔
٭ دائیں پہلو پر سونا جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔
٭ سوتے وقت اللہ کا ذکر کرنا۔
پھر انہوں نے کرمانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ دعا ان تمام اشیاء پر مشتمل ہے جن پر اجمالی طور پر ایمان لانا ضروری ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتابیں اور اس کے بھیجے ہوئے انبیاء کرام علیہم السلام ہیں۔
(فتح الباري: 136/11)
کی بھی تفسیر کر دی ان جادوگروں نے جو حضرت موسیٰ کے مقابلہ پر آئے تھے اپنے جادو سے سانپ بنا کر لوگوں کو ڈرانا چاہا ﴿وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ﴾
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ جب تو اپنے بستر پر آئے تو اس سے پہلے نماز کا سا وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر مذکورہ دعا پڑھو، پھر فرمایا: ’’اگر تم اسی رات فوت ہو گئے تو فطرتِ اسلام پر فوت ہو گے اور اگر صبح کی تو خیر و برکت سے ہمکنار ہو گے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 247) (2)
دائیں پہلو پر سونے میں بہت سے طبی فوائد بھی ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق دے۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔
واللہ أعلم
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایسے کچھ کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جانے لگو تو کہہ لیا کرو، اگر تم اسی رات میں مر جاؤ تو فطرت پر (یعنی اسلام پر) مرو گے اور اگر تم نے صبح کی تو صبح کی، خیر (اجر و ثواب) حاصل کر کے، تم کہو: «اللهم إني أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك وألجأت ظهري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ” اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے حوالے کر دی، میں اپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3394]
وضاحت:
1؎:
یعنی میں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہی کہو، انہیں بدلو نہیں۔
چاہے یہ الفاظ قرآن کے نہ بھی ہوں۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ” جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ” اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ (یعنی نفس) تجھ کو سونپ دیا، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی، اور اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3876]
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت براء بن عاذب ؓ کو فرمایا تھا۔
کہ سوتے وقت نماز کے وضو کی طرح وضو کرکے دایئں کروٹ لیٹ کر یہ دعا پڑھنا۔
مزید یہ دعا فرمائی تھی کہ دوسرے اذکار کے بعد سب سے آخر میں یہ دعا پڑھنا (صحیح البخاري، الدعوات، باب إذا بات طاھراً، حدیث: 6311)
(2)
سوتے وقت یہ دعا پڑھنے سے ایمان کی تجدید ہوجاتی ہے۔
اس لئے یہ دعا پڑھ کر سونا چاہیے-
(3)
وضو کرکے دعا پڑھنے سے ظاہری وباطنی طہارت حاصل ہوتی ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے۔
(4)
اللہ پر توکل بہت اہم اور افضل عمل ہے۔