حدیث نمبر: 3572
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْعَجْزِ وَالْبُخْلِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنَ الْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والعجز والبخل» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ، سستی و کاہلی سے ، عاجزی و درماندگی سے اور کنجوسی و بخیلی سے “ ، اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی آئی ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے بڑھاپے اور عذاب قبر سے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3572
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2722) ، سنن النسائی/الاستعاذة 13 (5460) ، و65 (5540) ( تحفة الأشراف : 3676) ، و مسند احمد (4/371) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2723 | سنن نسائي: 5461 | سنن نسائي: 5540

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والعجز والبخل» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی و کاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اور کنجوسی و بخیلی سے ، اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی آئی ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے بڑھاپے اور عذاب قبر سے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3572]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی وکاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اورکنجوسی و بخیلی سے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3572 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5461 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عاجزی اور مجبوری سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی و بے بسی، سستی و کاہلی، بخیلی و کنجوسی، بزدلی و کم ہمتی، بڑھاپے، قبر کے عذاب اور موت و زندگی کے فتنے سے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5461]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیےدیکھیے: 5445‘ 5447 ‘ 5450۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5461 سے ماخوذ ہے۔