سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب فِي انْتِظَارِ الْفَرَجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ ، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَدْ خُولِفَ فِي رِوَايَتِهِ ، وَحَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ هَذَا هُوَ الصَّفَّارُ لَيْسَ بِالْحَافِظِ ، وَهُوَ عِنْدَنَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ ، وَرَوَى أَبُو نُعَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَحَدِيثُ أَبِي نُعَيْمٍ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ أَصَحَّ .´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے ، اور افضل عبادت یہ ہے ( کہ اس دعا کے اثر سے ) کشادگی ( اور خوش حالی ) کا انتظار کیا جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حماد بن واقد نے ایسی ہی روایت کی ہے ، اور ان کی روایت میں اختلاف کیا گیا ہے ، ۲- حماد بن واقد یہ صفار ہیں ، حافظ نہیں ہیں ، اور یہ ہمارے نزدیک ایک بصریٰ شیخ ہیں ، ۳- ابونعیم نے یہ حدیث اسرائیل سے ، اسرائیل نے حکیم بن جبیر سے اور حکیم بن جبیر نے ایک شخص کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، اور ابونعیم کی حدیث صحت سے قریب تر ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، اور افضل عبادت یہ ہے (کہ اس دعا کے اثر سے) کشادگی (اور خوش حالی) کا انتظار کیا جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3571]
نوٹ:
(سند میں ’’حماد بن واقد‘‘ ضعیف ہیں)