حدیث نمبر: 3571
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ ، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَدْ خُولِفَ فِي رِوَايَتِهِ ، وَحَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ هَذَا هُوَ الصَّفَّارُ لَيْسَ بِالْحَافِظِ ، وَهُوَ عِنْدَنَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ ، وَرَوَى أَبُو نُعَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَحَدِيثُ أَبِي نُعَيْمٍ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ أَصَحَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے ، اور افضل عبادت یہ ہے ( کہ اس دعا کے اثر سے ) کشادگی ( اور خوش حالی ) کا انتظار کیا جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حماد بن واقد نے ایسی ہی روایت کی ہے ، اور ان کی روایت میں اختلاف کیا گیا ہے ، ۲- حماد بن واقد یہ صفار ہیں ، حافظ نہیں ہیں ، اور یہ ہمارے نزدیک ایک بصریٰ شیخ ہیں ، ۳- ابونعیم نے یہ حدیث اسرائیل سے ، اسرائیل نے حکیم بن جبیر سے اور حکیم بن جبیر نے ایک شخص کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، اور ابونعیم کی حدیث صحت سے قریب تر ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3571
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (492) // ضعيف الجامع الصغير (3278) // , شیخ زبیر علی زئی: (3571) إسناده ضعيف, حماد الصفار : ضعيف (تق : 1508) وفي السند الآخر:حكيم بن جبير: ضعيف (تقدم:2878) وشيخه مجهول
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 9515) (ضعیف) (سند میں ’’ حماد بن واقد ‘‘ ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، اور افضل عبادت یہ ہے (کہ اس دعا کے اثر سے) کشادگی (اور خوش حالی) کا انتظار کیا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3571]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’حماد بن واقد‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3571 سے ماخوذ ہے۔