حدیث نمبر: 3569
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَكِيمٍ خَطْمِيٌ مَوْلَى الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبِحُ الْعَبْدُ فِيهِ إِلَّا وَمُنَادٍ يُنَادِي : سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی صبح ایسی نہیں ہے کہ اللہ کے بندے صبح کرتے ہوں اور اس صبح میں کوئی پکار کر کہنے والا یہ نہ کہتا ہو کہ «سبحان الملك القدوس» کی تسبیح پڑھا کرو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3569
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (4496) // ضعيف الجامع الصغير (5188) // , شیخ زبیر علی زئی: (3569) إسناده ضعيف, موسي بن عبيدة: ضعيف كما تقدم (1122) وشيخه محمد بن ثابت : مجهول (تق:5772)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3647) (ضعیف) (سند میں ’’ موسیٰ بن عبیدہ ‘‘ ضعیف، اور ان کے استاذ ’’ محمد بن ثابت ‘‘ مجہول ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان۔`
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی صبح ایسی نہیں ہے کہ اللہ کے بندے صبح کرتے ہوں اور اس صبح میں کوئی پکار کر کہنے والا یہ نہ کہتا ہو کہ «سبحان الملك القدوس» کی تسبیح پڑھا کرو۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3569]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایک روایت میں (سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ) ہے تب معنی ہوگا (سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ) پڑھاکرو، یا پاک ہے، (الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ) (یعنی: اللہ تعالیٰ)

نوٹ:
(سند میں ’’موسیٰ بن عبیدہ‘‘ ضعیف، اور ان کے استاذ ’’محمد بن ثابت‘‘ مجہول ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3569 سے ماخوذ ہے۔