حدیث نمبر: 3557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِإِصْبَعَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحِّدْ أَحِّدْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ : إِذَا أَشَارَ الرَّجُلُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الشَّهَادَةِ لَا يُشِيرُ إِلَّا بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا : ” ایک سے ایک سے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- یہی اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تشہد میں انگلیوں سے اشارہ کرتے وقت صرف ایک انگلی سے اشارہ کرے ۔
وضاحت:
۱؎: جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کر دی ہے کہ یہ تشہد (اولیٰ اور ثانیہ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے، تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو باربار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائے گی، نہ کہ صرف «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» پر جیسا کہ ہند و پاک میں رائج ہو گیا ہے، حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، یا حرکت دیتے رہتے تھے، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا: ” ایک سے ایک سے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3557]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا: ” ایک سے ایک سے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3557]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کر دی ہے کہ یہ تشہد (اولیٰ اور ثانیہ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے، تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کرشہادت کی انگلی کو بار بار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائیگی، نہ کہ صرف (أَشْہَدُ أَن لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللہ) پر جیسا کہ ہندو پاک میں رائج ہو گیا ہے، حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، یا حرکت دیتے رہتے تھے، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کر دی ہے کہ یہ تشہد (اولیٰ اور ثانیہ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے، تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کرشہادت کی انگلی کو بار بار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائیگی، نہ کہ صرف (أَشْہَدُ أَن لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللہ) پر جیسا کہ ہندو پاک میں رائج ہو گیا ہے، حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، یا حرکت دیتے رہتے تھے، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3557 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1273 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کس انگلی سے اشارہ کرے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1273]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1273]
1273۔ اردو حاشیہ: دو انگلیوں سے اشارہ یا تو دائیں ہاتھ ہی کی دو انگلیوں سے ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلیوں کے ساتھ ہو چونکہ یہ اشارہ توحید کا عملی اظہار ہے، لہٰذا ایک انگلی ہی سے ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1273 سے ماخوذ ہے۔