سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب خَلْقِ اللَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں۔
حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ ، مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے یہاں کیسی کیسی سزائیں ہیں تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے ، اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع و عظیم ہے تو جنت میں پہنچنے سے کوئی بھی ناامید و مایوس نہ ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- ہم اسے صرف ابو العلاء کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ اپنے والد اور ان کے والد ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: ان سزاؤں کے تعین میں اللہ نے کسی پر ظلم سے کام نہیں لیا ہے، یہ بالکل انصاف کے مطابق ہیں، اللہ بندوں کے لیے ظالم بالکل نہیں، رہی جنت کی رحمت کی بات تو وہ تو سو میں سے ننانوے کا معاملہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے یہاں کیسی کیسی سزائیں ہیں تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے، اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع و عظیم ہے تو جنت میں پہنچنے سے کوئی بھی ناامید و مایوس نہ ہو " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3542]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے یہاں کیسی کیسی سزائیں ہیں تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے، اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع و عظیم ہے تو جنت میں پہنچنے سے کوئی بھی ناامید و مایوس نہ ہو " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3542]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان سزاؤں کے تعین میں اللہ نے کسی پرظلم سے کام نہیں لیا ہے، یہ بالکل انصاف کے مطابق ہیں، اللہ بندوں کے لیے ظالم بالکل نہیں، رہی جنت کی رحمت کی بات تو وہ تو سو میں سے نناوے کا معاملہ ہے۔
وضاحت:
1؎:
ان سزاؤں کے تعین میں اللہ نے کسی پرظلم سے کام نہیں لیا ہے، یہ بالکل انصاف کے مطابق ہیں، اللہ بندوں کے لیے ظالم بالکل نہیں، رہی جنت کی رحمت کی بات تو وہ تو سو میں سے نناوے کا معاملہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3542 سے ماخوذ ہے۔