سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب فِي فَضْلِ التَّوْبَةِ وَالاِسْتِغْفَارِ وَمَا ذُكِرَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ باب: توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ : قَدْ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ وَيَغْفِرُ لَهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .´ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جب ان کی موت کا وقت قریب آ گیا تو انہوں نے کہا : میں نے تم لوگوں سے ایک بات چھپا رکھی ہے ، ( میں اسے اس وقت ظاہر کر دینا چاہتا ہوں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی مخلوق پیدا کر دے جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- یہ حدیث محمد بن کعب سے آئی ہے اور انہوں نے اسے ابوایوب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آ گیا تو انہوں نے کہا: میں نے تم لوگوں سے ایک بات چھپا رکھی ہے، (میں اسے اس وقت ظاہر کر دینا چاہتا ہوں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی مخلوق پیدا کر دے جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3539]
وضاحت:
1؎:
صحیح مسلم کی روایت میں ہے (فَیَسْتَغْفِرُوْنَ فَیَغْفِرُلَہُمْ) یعنی وہ گناہ کریں پھر توبہ واستغفار کریں تو اللہ انہیں بخش دیتا ہے، اس سے استغفار اور توبہ کی فضیلت بتانی ہے۔
گویا مقصد تو توبہ کی ترغیب و تحریص ہے نہ کے گناہ کرنے کی ترغیب وتشویق۔