حدیث نمبر: 3525
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمَّلٌ غَلِطَ فِيهِ ، فَقَالَ : عَنْ حَمَادٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ وَلَا يُتَابَعُ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «يا ذا الجلال والإكرام» کو لازم پکڑو ( یعنی : اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، محفوظ نہیں ہے ، ۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے ، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے ، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے ، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا ، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3525
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1536)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 626) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3524

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3524 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دکھ تکلیف کے وقت دعا پڑھنے کا باب۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3524]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
 اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔

نوٹ:

(سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے (الکلم الطیب رقم:118)

نوٹ:

(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’یزید بن ابان رقاشی‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو(صحیحہ رقم: 1536، اور اگلی سند)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3524 سے ماخوذ ہے۔