سنن ترمذي
كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار
باب باب: دکھ تکلیف کے وقت دعا پڑھنے کا باب۔
حدیث نمبر: 3524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ : يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے : «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ” اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے ! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دکھ تکلیف کے وقت دعا پڑھنے کا باب۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ” اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3524]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ” اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3524]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔
نوٹ:
1۔
(سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے (الکلم الطیب رقم:118)
نوٹ:
2۔
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’یزید بن ابان رقاشی‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو(صحیحہ رقم: 1536، اور اگلی سند)
وضاحت: 1؎:
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔
نوٹ:
1۔
(سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے (الکلم الطیب رقم:118)
نوٹ:
2۔
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’یزید بن ابان رقاشی‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو(صحیحہ رقم: 1536، اور اگلی سند)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3524 سے ماخوذ ہے۔