حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : " سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ " ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ ، فَقَالَ لِي : " يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَدْ سَمِعَ مِنَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں ، آپ نے فرمایا : ” اللہ سے عافیت مانگو “ ، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں ، آپ نے فرمایا : ” اے عباس ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ۲- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے سنا ہے ( یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (2490 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (1523) , شیخ زبیر علی زئی: (3514) سنده ضعيف, فيه يزيد بن أبى زياد ضعيف و حديث الطبراني (330/11۔331 ح 11908) و الحاكم (529/1 ح 1939، وصححه الحاكم و وافقه الذهبي) سنده حسن وهو يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5129) ، و مسند احمد (1/209) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 1523)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اللہ سے عافیت طلب کرنے کا باب۔`
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: اللہ سے عافیت مانگو ، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3514]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو) (الصحیحة رقم: 1523)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3514 سے ماخوذ ہے۔